2022 Latest News Press Releases

خیبرپختونخواہ کے ٹیکسٹ بک بورڈ میں اربوں روپے کے گھپلوں کا انکشاف 

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے خیبرپختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کے معاملات میں سنگین بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کا سراغ لگایا ہے جس سے قومی خزانے کو3ارب 66کروڑ 19لاکھ روپے کا ا نقصان اٹھانا پڑا ہے آڈیٹرز نے بورڈ کی سابق انتظامیہ پر خوردبرد ٗ غبن، اختیارات کےناجائز استعمال، کتابوں کی جعلی فراہمی، مفت کتابوں کی بازارمیں فروخت،رائلٹی کی مد میں کم وصولی اور اسٹاک رجسٹر میںکتابوںکے جعلی اندراجات کا الزام لگایا ہے ۔آڈٹ نے بورڈ انتظامیہ اورمتعلقہ اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان سے ریکوری، اعلیٰ سطحی تحقیقات اور ذمہ داروںکے خلاف محکمانہ اور قانونی چارہ جوئی کی سفارش کی ۔19-2018 سے 2020-21کے تین سالوں پر مشتمل خصوصی آڈٹ رپورٹ گورنر خیبرپختونخوا کو پیش کر دی گئی تاکہ رپورٹ کو آئین کے آرٹیکل 171 کی تحت صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جاسکے۔سیلز ٹیکس کی مد میں تقریباً ایک ارب 75کروڑ روپےکی کٹوتی نہیں کی گئی۔بورڈ نے سیلز ونگ کی جانب سے 26750 ملین روپے کی کتابوں کی فروخت کا آڈٹ ایبل ریکارڈ پیش نہیں کیا۔وزیر تعلیم شہرام خان تراکئی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ بے قاعدگیوں اوربے ضابطگیوں میں ملوث افراد کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی لیکن میں نے رپورٹ نہیں پڑھی۔ میری ٹیم کو پہلے اسے پڑھنے اور تجزیہ کرنے دیں۔بورڈ کے ایک افسر نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نئے تعینات ہونے والے چیئرمین نے بورڈ کے معاملات کو بہتر بنانے، شفافیت کو یقینی بنانے اور جوابدہی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں لیکن یہ رپورٹ پچھلے سالوں کی ہے جس کا جواب سابقہ افسروں کو دینا پڑے گا ۔آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق تعلیمی سال 2018-19 سے 2020-21کے تین سالوں میں صوبے بھر کے سرکاری سکولوں میں طلباء کی اصل تعدا کے مطابق د س کروڑ 90 لاکھ 70ہزار 294 مفت کتابوں کی ضرورت تھی ۔تاہم ٹیکسٹ بک بورڈ نے 15 کروڑ 10لاکھ 53ہزار 609 مختلف جماعتوںکی کتابیں چھاپیں جس کے نتیجے میں تین سالوں کے دوران سرکاری اسکولوں میں داخل ہونے والے اصل طلباء کی ضرورت سے 4کروڑ 19لاکھ 83ہزار 315کتابیں زیادہ چھاپ کرقومی خزانے کو ایک ارب 64کروڑ 18لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ آڈٹ نے معاملے کی اعلیٰ سطحی انکوائری، متعلقہ افراد سے رقم کی وصولی کے علاوہ قصوروار افراد پر ذمہ داری کا تعین کرنے کی سفارش کی ہے ۔

Related posts

اپنے انکم ٹیکس کا حساب خود لگائیں ۔تنخواہ سے کٹی رقم سے اس کا موازنہ کریں اور لائحہ عمل طے کریں

Ittehad

صدر پی پی ایل اے ملتان ڈویژن جاوید اصغر پرنسپل بن گئے

Ittehad

یونیورسٹی آف لاہور:تدریسی وغیر تدریسی عملے کو ملازمتوں سے نکالنے کا آغاز

Ittehad

Leave a Comment