2023 HED News Latest News

گجرات کے چار کالجز سیاسی عناد اور حسد کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ۔۔گجرات یونیورسٹی سے ریپیٹریٹ ہونے والے کالجز کی کہانی

گورنمنٹ کالج برائے خواتین فوارہ چوک گجرات ،گورنمنٹ کالج برائے خواتین مرغزار کالونی گجرات ،گورنمنٹ کالج جی ٹی روڈ گجرات اور گورنمنٹ کالج ریلوے روڈ گجرات 2003 میں یونیورسٹی آف گجرات کے کانٹیسٹیوانٹ کالجز بنا دیا گیا 2021 میں سٹاف جس کی تعداد فوارہ چوک میں چالیس مرغزار کالونی میں تقریبا تیس تھی ریپیٹریٹ کر کے گورنمنٹ کالجز میں بھجوا دیا گیا گورنمنٹ کالج جی ٹی روڈ اور گورنمنٹ کالج ریلوے روڈ میں پچیس سے تیس فیکلٹی ممبران تھے

سن دو ہزار تین میں طالبات کی تعداد فوارہ چوک میں تین سے ساڈھے تین ہزار مرغزار کالونی میں 2500 سے 3000 ہزار تھی اور دوسرے دونوں میں 1500 سے 2000 تک تھی جو اگر اج بڑھ کر دگنی ہو چکی ہوتی طالبات کے دونوں کالجز میں طالبات کی تعداد زیادہ ہونے کی بنا پر وزیٹینگ فیکلٹی کی خدمات لینا پڑتی تھی

گجرات( نمائندہ خصوصی )دو سال قبل جب چوہدری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے تو گجرات کے عوام نے مطالبہ کیا کہ کیونکہ گجرات کی چار کالجوں کے گجرات یونیورسٹی کے کانسٹیٹیٹوانٹ کالج بن جانے سے گورنمنٹ سیکٹر میں سوائے گورنمنٹ زمیندارہ کالج بھمبر روڈ گجرات کے کوئی اور ادارہ نہیں رہ گیا تھا اب جبکہ گجرات یونیورسٹی کو بھی ضرورت نہیں رہی اور گجرات کے باسیوں کو اشد ضرورت ہے تو ان چاروں کالجوں کو واپس محکمہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو واپس کر دیا جائےفیصلہ ہو گیا مگر ماہرین قانون نے بتایا کہ اس کے لیے ایک مرتبہ بھر ایکٹ تبدیل کروانے کے لیے اسمبلی سے رجوع کرنا ہوگا چنانچہ اس مقصد کے لیے ایکٹ میں ترمیم کروائی گئی یوں گجرات کے عوام کا ایک بڑا مطالبہ پورا تو ہوگیا مگر اس سے قبل کیونکہ پبلک سیکٹر کا سٹاف ریپیٹریٹ ہو چکا تھا اگرچہ ایکٹ کی رو سے اسے اسی حالت میں بحال ہونا تھا مگر ااس کے فوراً بعد پرویز الٰہی کی حکومت ختم ہو گئی اور ان کی حریف حکومت قائم ہوئی جو کبھی نہیں چاہتی تھی کہ کہ چوہدری پرویز الٰہی کی گڈ ویل میں اضافہ ہو انہوں نے اسے کم کرنے کے اقدامات شروع کر دئیے مثلاً فوری طور پر اتنی سیٹیں بحال کر کے ان پر سابقہ عملے کو ٹرانسفر کر کے تدریسی عمل شروع کروا دیا جاتا اس کے لیے ازسر نو ایس این ای مانگ لی گئیں جن کی تعداد فوارہ چوک 22 مرغزار 23 جی ٹی روڈ 19 اور ریلوے روڈ 19 مانگی گئی جو نئے میں منظور ہونگی اور پھر سٹاف کی پوسٹنگ ہو سکے گی یوں تدریسی عمل رکا رہے گا اور داخلوں کا وقت گزر چکا ہوگا اس طرح ایک طرف تو سیاسی عناد اور حسد کاجذبہ پورا ہوگا دوسری جانب پرائیویٹ کالجوں کو سہولت فراہم کر دی جائے گی کہ وہ زیادہ سے زیادہ داخلے کر لیں

Related posts

نامور شاعر ۔ادیب و دانشور ڈاکٹر اصغر علی کو  پرنسپل گورنمنٹ کالج جڑانوالہ تعینات کرنے کا فیصلہ 

Ittehad

خواتین لیکچررز کی پرموشن لنک ٹریننگ کے لیے الگ درخواست

Ittehad

 جی پی ایف کی منافع کی  شرح بڑھا کر 14.22 کردی گئی

Ittehad

Leave a Comment