2024 Latest News Press Releases

نامور ماہر تعلیم پروفیسر طرافت علی مدت ملازمت مکمل کر کے ریٹائر ہوگئے

سروس کے آغاز سے اتحاد اساتذہ پاکستان سے وابستہ رہے وہ ان چند ہستیوں میں سے ہیں جنہوں نے ڈویژن میں اتحاد اساتذہ کی داغ بیل ڈالی فیصل آباد میں اتحاد اساتذہ کی مسلسل کامیابیاں میں ان کی بھی ہاتھ ہے اتحاد اساتذہ کے ساتھی ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھیں اور د اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیںان کی زندگی عمدہ صحت اور خوش حالی سے گزرے

فیصل آباد ۔۔نمائندہ خصوصی ۔۔گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج ستیانہ روڈ فیصل آباد کے پرنسپل اور اتحاد اساتذہ پاکستان کے ابتدائی زمانے کے ساتھی و رہنما پروفیسر طرافت علی مدت ملازمت مکمل کر کے پانچ جون 2024 کو ریٹائر ہو گئے ان کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ان کے کالج سٹاف کی جانب سے ایک تقریب پذیرائی کا اہتمام کیا گیا جس میں ان کی محکمہ تعلیم ،اس کالج اور کولیگز کے لیے اور اساتذہ برادری کے لیے گراں قدر خدمات پر ہدیہ عقیدت پیش کیا گیا اس موقع پر ان کے ایک لولیگ پروفیسر محمد سلیم صدیقی کے قلم سے ان کی زندگی کی خوبصورت تصویر کشی کی گئی ہے اس بغیر کی تبدیلی کے آپ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے

سرکاری ملازم کی زندگی میں دو دن خاص طور پر اہمیت کے حامل ہوتے ہیں پہلا دن جب اسے سرکار ملازمت کے لئے چن لیتی ہے اور خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں میں سے میرٹ پر منتخب ہونا بہت بڑا معرکہ ہے اور پھر براہ راست گریڈ سترہ میں کالج لیکچرر بننا تھوڑا سا خمار دیتا ہے اسی لئے نئے نئے بھرتی ہونے والے کچھ عرصہ تو ہواؤں میں اڑتے رہتے ہیں ، بہرحال یہ تو درمیان میں ایک جملہ معترضہ تھا، کہنا یہ ہے کہ سروس کا آغاز بھی ہمیشہ یاد رہتا ہے اور پھر دوسرا دن جب وہ اپنی ملازمت کی  ” طبیعی ” عمر یعنی ساٹھ سال کو پہنچتا ہے۔ یہ دونوں دن اس کی زندگی کو نیا رخ دیتے ہیں۔ 

میرے ممدوح جناب پروفیسر میاں طرافت علی صاحب اپنی سرکاری ذمہ داریوں سے آج سبکدوش ہو رہے ہیں۔ آپ 6 جون 1964 کو فیصل آباد کے مضافاتی علاقہ گٹی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے بزرگ محترم جناب محمد علی مرحوم و مغفور  ایک نیک اور صوفی صفت انسان تھے جنہوں نے اللّٰہ والوں سے گہرے تعلق کو بہت احسن طریقے سے نہ صرف نبھایا بلکہ اپنی اولاد میں بھی یہ محبت منتقل کی۔ جناب طرافت علی صاحب نےایسے ہی ایک دیندار ماحول میں اپنی زندگی کا ابتدائی دور گزارا، گٹی ہائی سکول سے 1979 میں نمایاں نمبروں کے ساتھ میٹرک کی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد گورنمنٹ کالج ( موجودہ جی سی یونیورسٹی) فیصل آباد سے 1981 میں انٹر اور 1983 میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیمی میدان میں آپ شروع سے ہی نمایاں رہے خود فرماتے ہیں کہ میرے بزرگوں کی خواہش تھی کہ میں ایل ایل بی کروں اور اس سلسلہ میں ابتدائی طور پر بی اے میں متعلقہ مضامین بھی رکھوا دیئے گئے لیکن بقول آپ کے ایک دوست کے ساتھ کچہری جانا ہوا تو وہاں پر پڑے ” پھٹے (بنچ) اور ان کے ساتھ بندھی کرسیاں دیکھ کر پوچھا کہ یہ کس کی ہیں تو پتہ چلا کہ یہاں وکلاء حضرات بیٹھتے ہیں(یہ فیصل آباد کچہری کی پرانی بات ہے ) تو کہتے ہیں کہ فورا ہی سبجیکٹ تبدیل کئے اور پھر شماریات میں شمار ہو گئے۔ 1986 میں ایگریکلچر یونیورسٹی فیصل آباد سے ایم ایس سی کی اور اگلے ہی سال یعنی 11 نومبر 1987 میں پبلک سروس کمیشن سے لیکچرر منتخب ہوئے۔ سروس کا آغاز  غوثیہ کالج 333 گ/ب پیرمحل سے کیا۔ ابھی پچھلے دن آپ سے بات ہو رہی تھی تو میں نے پوچھا کہ اب سروس سے ریٹائرمنٹ پر کون سا پیریڈ آپ کی نظر میں بہترین رہا تو برجستہ جواب تھا کہ 333 کالج کے سات سال یادگار ترین دن تھا اور خاص طور پر پروفیسر سعید اکرام صاحب اور محترم اشرف صاحب کا نام لیا جبکہ وہاں کے مقامی دوستوں کی محبتیں آج بھی ان کی یادوں میں بسی ہیں۔ 1994 میں گورنمنٹ اسلامیہ کالج میں ٹرانسفر ہو کر آئے اور 2007 تک یہیں ڈیرے ڈال رکھے، اسلامیہ کالج اساتذہ کی سیاسی تاریخ میں ہر دور میں نمایاں رہا ہے آپ بھی اسی سیاسی اتار چڑھاؤ کا حصہ رہے لیکن ذاتی تعلقات سب سے قائم رہے ۔ 2007 سے لیکر 16 جولائی 2019 تک کامرس کالج فیصل آباد میں درس و تدریس جاری رہا، اور پھر 17 جولائی 2019 کو موجودہ کالج یعنی ستیانہ روڈ میں پرنسپل تعینات یوئے۔ آپ خود فرماتے ہیں کہ میں مزاجاً پرنسپل نہیں ہوں اور آپ کا یہ تقریباً 5 سال کا عرصہ اس پر گواہ بھی ہے کہ آپ نے پرنسپل بن کر نہیں بلکہ گھر کے سرپرست اور بڑے کی طرح سب کے ساتھ معاملات کئے۔ گورنمنٹ گریجویٹ کالج پیپلز کالونی نمبر 2 ،ستیانہ روڈ شہر میں اتنا معروف نہیں تھا، گراؤنڈز تقریبا غیر آباد تھیں، یہ آپ ہی کی کاوشوں اور محنت کا نتیجہ ہے کہ نہ صرف یہاں چار بی ایس شروع ہو چکے ہیں بلکہ کالج کی گراؤنڈز فیصل آباد کے کسی بھی بڑے کالج کی گراؤنڈز سے معیار اور خوبصورتی میں خاص مقام رکھتی ہیں، محدود دستیاب وسائل کے باوجود صرف لگن اور ذاتی دلچسپی کا نتیجہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کالج کا ہر فرد خواہ وہ ٹیچنگ اسٹاف سے ہو یا نان ٹیچنگ سٹاف سے ، سب آپ کی محبتوں کے اسیر ہیں۔ اللّٰہ کریم کا خاص کرم ہے آپ پر کہ بحثیت لیکچرر سروس کا آغاز کرنے والے جناب پرنسپل 20 ویں گریڈ میں رانسان کی نیک نیتی اور خلوص کا صلہ اللّٰہ کریم اسی دنیا میں بھی عطا فرماتے ہیں۔ جناب پرنسپل صاحب کو بھی اللّٰہ کریم نے اپنے خاص کرم سے نوازا ہے۔ آپ کا ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں اور ساری اولاد ہی تعلیمی میدان میں کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے بیٹا محمد عبداللہ بی ایس مکمل کر چکا ہے جبکہ بڑی بیٹی ڈی فارم کے سیکنڈ لاسٹ سیمسٹر میں ہے منجھلی بیٹی اس وقت ایم بی بی ایس کے دوسرے سال میں ہے جبکہ چھوٹی بیٹی نے ابھی ایف ایس سی کا امتحان دیا ہے۔ اللّٰہ کریم بچوں کو کامیاب زندگی سے نوازے۔ آمین

آخر میں یہ کہنا ضرور چاہوں گا کہ جس طرح آپ کی زندگی کی مصروفیات رہی ہیں کہ سرکاری ذمہ داریاں بھی تھیں کچھ دیگر کاروباری اور سوشل ایکٹیویٹیز بھی ، یہ کبھی بھی یوں سارے معاملات نہ سنبھالے جاتے اگر آپ کے ساتھ آپ کی بیگم صاحبہ کا تعاون نہ ہوتا یقینا انہوں نے قدم قدم پر اپنے ہمسفر کا ساتھ نہایت احسن طریقے سے دیا اس کامیابی پر آپ کی مبارک باد کی مستحق ہیں۔

آخر میں دعا ہے کہ اللّٰہ رب العزت سرکار مدینہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے صدقے صحت و عافیت کے بچوں کی خوشیاں دیکھنا نصیب فرمائے۔آمین

 

Related posts

      گورنمنٹ کالج لاہور میں  تدریسی انتظامی اور درجہ چہارم کی آسامیوں پر درخواستیں طلب 

Ittehad

بابائے علم صحافت ۔معروف سیاسی تجزیہ کار اور ہومن رائٹس ایکٹوسٹ ڈاکٹر مہدی حسن انتقال کر گئے

Ittehad

عدالت عالیہ نے سنگل پینشن کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوہری پینشن کا حکم دیدیا

Ittehad

Leave a Comment