2020 Latest News

سرکاری و پرائیویٹ سکولز کے لیےحکومت کی جانب سے ایس او پیز

  • سکول اوپننگ ایس او پیز
    1۔ سکول کھلنے سے دو دن پہلے پانی میں سرف ، ڈیٹول ڈال کر  سکول دھلوانا ہے۔2۔ ہیڈ ٹیچر آرڈر  بک پر درج ذیل پوائنٹس لکھ کر ٹیچرز سے سائن لے اور یہ یقینی بنائے کہ تمام ٹیچرز SOPs پورے کر رہے ہیں۔ اس کی باقاعدہ ٹریننگ دے ۔3. ہر کلاس انچارج کے پاس بچوں کے والدین کے موبائل نمبرز کی لسٹ ہو۔ اور اسی لسٹ کی ایک کاپی ہیڈ ٹیچر کے پاس بھی ہو۔ 4۔ سکول کھلنے سے دو دن پہلے سکول کونسل اور سٹاف میٹنگ کریں اور سکول کونسل کے ذمہ لگائیں کہ والدین میں آگاہی پیدا کریں کہ وہ COVID 19 کے SOPs پورے کر کے بچوں کو سکول بھیجیں۔ اس سلسلہ میں مساجد میں اعلانات بھی کرواے جا سکتے ہیں کہ بچوں کو ماسک، اور ہاتھ دھلوا کر سکول بھیجیں اور بیمار بچے کو سکول نہ بھیجیں۔ 5۔ بچوں کے آنے جانے کا رستہ علیحدہ ہو۔ چاک کی مدد سے نشان لگے ہوں ۔کلاس وائز آئیں جائیں، سوشل ڈسٹنسنگ فالو کریں6-کلاس روم روزانہ دھلوانے ہیں۔سویپر رکھیں۔ دروازے کی ناب، ٹیچنگ ایڈز ، بنچ ڈیسک اور وہ اشیاء جن کو چھونا ہے۔ روز صاف کروانے ہیں۔ 7۔ٹیچرز بچوں کو ہاتھ دھونے (20 سیکنڈز) اور ماسک پہننے اور سوشل ڈسٹنسنگ کی ترغیب دیں۔ 8-  احتیاطی تدابیر کے پوسٹرز کلاس روم میں، واشروم کے باہر اور نمایاں جگہ پر لگائیں۔ 9-کلاس روم سیٹنگ 3 سے 6 فٹ ہو۔ اور ہر بچے کی سیٹ فکس ہو۔10-ہینڈ واشنگ پوائنٹ زیادہ سے زیادہ ہوں اور صابن موجود ہو11-کلاس ٹائم ٹیبل نئے سرے سے بنائیں اور ٹیچرز ہاف سلیبس کو SLOs کے مطابق پڑھائیں۔ 12- سکول میں کسی جگہ اکٹھ نہ ہو۔ 13- ہر کلاس روم میں سپرے بوتلیں پڑی ہوں تاکہ سینیٹایز کیا جا سکے۔ سینیٹائزر بھی خود بنانا ہے ۔ اس کو بنانے کا طریقہ جلد بتا دیا جاے گا۔ 14- صفائی کا روسٹر بنائیں جس کی مانیٹرنگ ٹیچرز کے ذمہ ہو۔ اور کلاس روم میں چارٹ آویزاں ہو۔ 15-گیٹ پر سٹاف کی ڈیوٹیز لگائیں تاکہ محفوظ انٹری/ایگزٹ ہو۔ 16- کوئی بچہ دوسرے بچے سے کاپی، پنسل، کتاب ، سٹیشنری نہ لے۔ 17- بریک ، سپورٹس، اسمبلی پر پابندی ہے۔ لیکن سکول کھلنے کے بعد اگر ضرورت ہو تو ہیڈ ٹیچر بریک کا میکنزم بناے لیکن اس کو سٹاف کے ذریعے مانیٹر کرے کہ COVID 19 کے SOPs پورے ہوں18- ٹیچرز بچوں کی تربیت کریں۔ماسک پہنناہاتھ دھوناآنکھ ناک کان کو نہ چھوناکھانسنے اور چھینکنے کے آداب کپڑے کا ماسک گھر پر بناناکھڑکیاں دروازے کھلے رکھنا Safe & Healthy behaviourاگر کوئی بچہ بیمار تو اس کا گھر پر رہنا ۔ اور اگر وہ سکول آ گیا ہے تو ایسی جگہ کا انتخاب جہاں وہ رہے جب تک اس کے گھر والے لینے نہیں آ جاتے۔ 19- سکول کیری، رکشہ ڈرائیورز کو پابند کرنا کہ وہ ماسک پہنیں اور ہاتھ دھوئیں۔ بچوں کے بیگز کو کم سے کم چھوئیں۔ سوشل ڈسٹنسنگ کو اپنی سواری میں یقینی بنائیں۔ 20- ایک COVID 19 کمیٹی بنائیں جس میں ہیڈ ٹیچر، ٹیچر ، کمیونٹی ممبر شامل ہوں ناگہانی صورتحال پر محکمہ ہیلتھ اور ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن سپروائزر سے رابطہ کرے۔21- اگر کسی کو کرونا کی علامات ہیں یا اس کے گھر میں کسی کو کرونا کی علامات ہیں۔ تو اس کا ٹیسٹ ہونا لازمی ہے۔ 22- اور اخر میں ٹیچرز بچوں کی نفسیات پر پوری توجہ دیں۔ ان چھٹیوں میں بچوں نے مختلف طریقے سے وقت گزارا ہے۔ کسی نے گھر میں کرونا کی اذیت دیکھی ہو گی۔ کسی نے یہ وقت فضول کاموں میں ضائع کیا ہوگا۔ کسی کے گھر کے  مالی حالات کرونا کی وجہ سے ڈسٹرب ہوے ہوں گے۔ اس لیے کچھ بچے ضرورت سے زیادہ ڈسٹرب بھی ہوں گے۔ اور ڈپریس بھی۔ جب کہ کچھ بچے بلکل نارمل رویہ میں ہوں گے۔ جب کہ کچھ بچے پر جوش بھی ہوں گے اور انہوں نے چھٹیوں میں کرئیٹو ورک بھی کیا ہو گا۔ اس لیے کلاس کا ماحول پہلے سے مختلف ہو سکتا ہے۔ اس لیے تمام ٹیچرز سے گزارش ہے کہ بچوں کی نفسیات کو سمجھیں۔ ان کی مدد کریں اور آہستہ آہستہ ان کو زندگی کی دوڑ میں دوبارہ شامل کریں۔

Related posts

  اسلامیہ کالج گوجرانولہ کے پروفیسر موسیٰ رضا انتقال کرگئے 

Ittehad

سندھ:اسسٹنٹ پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز کالجز کی ترقی کےلئے کیسز طلب

Ittehad

اجتک 680میں سے 330 کالجز کی رجسٹریشن

Ittehad

Leave a Comment